لندن میں فلسطین کے حق میں احتجاج، 890 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
لندن: برطانوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران 890 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مظاہرین نے ’فلسطین ایکشن‘ نامی تنظیم پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق 857 افراد کو تنظیم کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا جبکہ 33 دیگر مظاہرین کو مختلف الزامات میں حراست میں لیا گیا، جن میں 17 افراد پر پولیس اہلکاروں پر حملے کا الزام بھی شامل ہے۔
پولیس نے مظاہرے سے قبل ہی وارننگ جاری کی تھی کہ جو بھی اس گروپ کی حمایت کرے گا، اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جولائی میں فلسطین ایکشن کے کچھ اراکین نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو فوجی مدد فراہم کرنے کے خلاف رائل ایئرفورس کے ایک اڈے میں گھس کر طیاروں کو نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعد حکومت نے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔