وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ایک لاکھ انویٹرز کو نیشنل انوویشن ایوارڈز تفویض
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ایک لاکھ انویٹرز کو نیشنل انوویشن ایوارڈز سے نوازا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے ویژن کے مطابق نوجوانوں کو مثبت سمت میں راغب کرنے، دور جدید کے مطابق ہم آہنگ کرنے، با اختیار بنانے، جدت پر مبنی اسٹارٹ اپس کو فروغ، قومی اور بین الاقوامی شناخت دینے، انٹرپرینیورشپ اور پائیدارترقی کے کلچر کی حوصلہ افزائی کےلئے ایک لاکھ انویٹرز کو نیشنل انوویشن ایوارڈز دیئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مالی سال 26-2025کے دوران نیشنل انوویشن ایوارڈز کےلئے 10کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سینئر رکن و پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا مشہود خان کے ادارے کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق نیشنل انوویشن ایوارڈ کاروباری نوجوانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ آٹھ موضوعاتی شعبوں سے متعلق اپنے اختراعی آئیڈیاز کو ایکو-انوویشن پر خصوصی توجہ کے ساتھ پیش کریں۔
ان آٹھ شعبوں کے علاقائی اور قومی سطح کے مقابلے ہوں گے۔منتخب آئیڈیاز اور ٹیمیں پرائیویٹ سیکٹر اور اسٹارٹ اپ انڈسٹری کے ساتھ کام کریں گی جبکہ منتخب ٹیموں اور آئیڈیاز کو اسکالرشپ اور ٹریننگ بھی ملے گی۔
یہ مقابلے اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ پائیدار اور سبز ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔
ان مقابلو ں میں تحفظ خوراک، زراعت اور غذائیت، پائیدار فوڈ ایکو سسٹم، پانی کا انتظام اور پائیداری،آبپاشی، پانی کا تحفظ، فضلہ اور پانی کا انتظام، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات موسمیاتی تخفیف، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، میٹرو پیمانے پر آلودگی میں کمی، موسمیاتی ماڈلنگ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام، مصنوعی ذہانت، سائبرسکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، ٹیکنالوجی تک رسائی میں تفاوت، فائیو جی، آئی سی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال، سوشیالوجی اور فلسفہ، فکری ورثہ، مادی ثقافت، کام اور خاندان کا مستقبل شامل ہیں۔
ان میں سیاست، جنس، آبادی، شہری منصوبہ بندی، شہری جگہ اور زندگی کا تحفظ، دوسرے درجے کے شہروں کی منصوبہ بندی، نقل و حمل، فضلہ جمع کرنا، جدید طرز حکمرانی اور اصلاحات، سٹیزن سروسز، سٹیزن اسکور کارڈز کے لیے ردعمل کے مقابلہ جات بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام نیشنل انوویشن ایوارڈز کے ذریعے نوجوانوں کو با اختیار اور برسر روزگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
نوجوان اس حوالے سے معلومات اور آگاہی کے لیے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے آن لائن پورٹل ڈیجیٹل یوتھ ہب پر اپنی رجسٹریشن کرائیں تاکہ انہیں ان کی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق مواقع تک رسائی کا موقع مل سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوتھ پروگرام کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔