پی ٹی آئی رہنما سمیت 6 ملزمان سینٹرل جیل پشاور پر حملہ کیس میں بری
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پشاور سینٹرل جیل پر حملے کے مقدمے نامزد پی ٹی آئی کے رہنماعرفان سلیم سمیت 6ملزمان کو جرم ثابت نہ ہونے پرمقدمے سے بری کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور سینٹرل جیل پر حملے کے مقدمے کی سماعت اے ٹی سی جج ولی محمد نے کی۔
استغاثہ نے ایک بار پھر ملزمان عرفان سلیم ،سجاد بنگش، علامہ اقبال ، صدیق ، محمد جلال اور عصمت اللہ پر سینٹرل جیل پشاور پر مبینہ حملے کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے اس دوران اندر داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی۔
عدالت کو استغاثہ نے بتایا کہ واقعہ 24 فروری 2024 کو پیش آیا تھا جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔
دوسری جانب ملزمان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں لہذا ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر مقدمے سے بری کیا جائے۔
انہوں نے بتایاکہ ان کے موکلوں کے خلاف سیاسی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ ملزمان اس وقت جیل بھرو تحریک چلا رہے تھے۔
عدالت نے مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے اور جرم ثابت نہ ہونے پر تمام ملزمان کو مقدمے سے بری کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینٹرل جیل
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔