9 مئی کیس: یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، سرفراز چیمہ کو 10،10 سال قید کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
لاہور:
انسداد دہشت گردی عدالت نے اعلیٰ عدلیہ کے جج کے اسکواڈ میں شامل گاڑی جلانے کے کیس میں یاسمین راشد سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4دیگر سینئر رہنماؤں کو 10 سال اور ایک خاتون رہنما کو 5 سال قید کی سزا سنادی جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کردیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے 9 مئی احتجاج کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کو موجودگی ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا ہے جبکہ سابق صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے خدیجہ شاہ کو بھی 5 سال قید کی سزا سنا دی ہے جبکہ روبینہ جمیل اور افشاں طارق کو بری کر دیا ہے۔
لاہور میں تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمہ نمبر 109/23 میں کل 51 ملزمان کا چالان پیش کیا گیا اور عدالت نے مجموعی طور پر 39 ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا۔
مقدمے میں نامزد 12 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، مقدمے میں مجموعی طور پر 5 خواتین ملزمان بھی شامل ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمے کا ٹرائل جیل میں مکمل کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسداد دہشت گردی عدالت عدالت نے سال قید
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔