بلوچستان ہائی کورٹ (بی ایچ سی) کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ نے وکلا برادری پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو کر عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں، عدلیہ اور وکلا میں سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے گزشتہ شب تربت، گوادر اور پنجگور بار ایسوسی ایشنز کے مشترکہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو اپنے دائرہ کار میں اور ججوں کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہیے، کیونکہ اصل اسٹیک ہولڈر عوام ہیں، وکلا اور ججز دونوں عوام کے خادم ہیں اور سب سے بڑی قوم پرستی یہ ہے کہ آدمی اپنے عوام کے ساتھ دیانتدار اور سچا ہو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں میں آنے والے زیادہ تر مقدمہ باز غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ انصاف کی امید کے ساتھ آتے ہیں، لیکن اکثر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ان مشکلات کو کم کرنے کے لیے انہوں نے عوامی سہولت مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا، جن میں ڈے کیئر سہولتیں، خواتین کے لیے شیلٹر ہومز اور ویٹنگ رومز شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ بازوں کے ساتھ عدالتوں میں عزت اور احترام کے ساتھ پیش آیا جائے گا اور کسی بھی افسر کی جانب سے عوامی وقار کو نظر انداز کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

جسٹس روزی خان بڑیچ نے کہا کہ عدلیہ وکلا کے لیے خود احتسابی نظام متعارف کروا رہی ہے، تاکہ مافیاز اور کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جا سکے، انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض مافیاز نے اپنے کالے دھندوں کو بچانے کے لیے اپنے بچوں کو بھی وکالت میں داخل کرایا ہے، لیکن اب ایسے عناصر کو نظام سے نکالنا ہو گا۔

انہوں نے بار کونسلز کو خبردار کیا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے بدعنوانی کے عمل، غنڈہ گردی، جعلسازی اور غداری کو برداشت نہیں کیا جائے گا، بار کونسلز کا فرض ہے کہ وہ غلط عناصر کو ختم کریں اور پیشے کی عزت کو قائم رکھیں۔

چیف جسٹس نے یہ بھی اعلان کیا کہ کاپی برانچ کے قیام کے بعد غریب مقدمہ بازوں کو بیانات اور پیپر بکس مفت فراہم کیے جائیں گے تاکہ انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کالے کوٹ کا وقار ایمانداری اور دیانت میں ہے، اسی وقار کی بنیاد پر عوام وکلا کو اربوں روپے کی جائیدادیں اور سنگین مقدمات جیسے قتل تک سپرد کرتے ہیں، اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانا پورے نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ