اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا سیکیورٹی فورسز کو خیبر پختونخوا میں کامیاب کارروائیوں پر خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سیکیورٹی فورسز کو خیبر پختونخوا میں کامیاب کارروائیوں پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی پھیلانے والے خوارج کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قربانیاں قابلِ تعریف ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے 19 بھارتی پراکسی خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی جرات اور بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں تخریب کاری کرنے والے عناصر جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاک فوج، عوام اور پارلیمان ایک پیج پر ہیں اور پاکستان کے عوام اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کا غیر متزلزل عزم قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں اور پوری قوم اور پارلیمان قومی سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔