خاران، نامعلوم مسلح افراد کا خانہ بدوشوں پر حملہ، تین بھائیوں سمیت 4 افراد قتل، 4 اغواء
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع خاران کے دور دراز اور پہاڑی علاقے خوکاب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے خانہ بدوشوں کے کیمپ پر حملہ کر کے تین بھائیوں سمیت چار افراد کو قتل کر دیا، جب کہ چار افراد کو اغوا کر کے فرار ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ جاں بحق اور اغوا ہونے والے تمام افراد مقامی خانہ بدوش تھے اور محمد حسنی بلوچ قبیلے کی ایک ذیلی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔
واقعہ بدھ کی صبح خاران شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر مشرق کی جانب تحصیل پتکن کے علاقے خوکاب میں پیش آیا۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں خیمہ زن تھا اور بنیادی سہولیات سے محروم اس علاقے میں مقیم تھا۔
حملے میں جنگی خان، صاحب خان، نصرت عرف اشرف ولد نیک محمد اور ان کا رشتہ دار ثنا اللہ پیری موقع پر جاں بحق ہوئے، جب کہ صابر اور مقتول ثنا اللہ کے تین بھائی بہادر خان، نوکر خان، اور احمد خان کو اغوا کر لیا گیا۔
علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو اطلاع تاخیر سے ملی۔ متاثرہ خاندان نے بھی فوراً اطلاع نہیں دی، جس کے بعد پولیس نے خود ذرائع سے خبر پا کر موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم خاندان کی جانب سے کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر خاران کے مطابق علاقے میں قبائلی تنازعات موجود ہیں، تاہم اس واقعے کی حتمی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے، جن میں قبائلی دشمنی، ذاتی رنجش، یا دہشت گردی جیسے عوامل شامل ہیں۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور اغوا کاروں کی تلاش کے لیے چھاپے مار کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ واقعہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں سیکیورٹی کی نازک صورتحال اور ریاستی اداروں کی رسائی میں دشواریوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں نہ صرف بنیادی سہولیات کی کمی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بر وقت کارروائی سے قاصر رہتے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علاقے میں
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔