مہمند، شمالی وزیرستان اور بنوں میں آپریشن، 19 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
راولپنڈی (نیوز ڈیسک) سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 19 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی شب کی گئیں۔ ضلع مہمند کے علاقے گولونو میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی میں 14 خوارج مارے گئے۔
شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں دوسرے آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد انجام کو پہنچے، جبکہ ضلع بنوں میں ایک خارجی ہلاک ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔ یہ دہشت گرد علاقے میں کئی وارداتوں میں ملوث تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بچے کھچے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے آپریشنز جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورکس کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک