Express News:
2026-07-24@10:47:45 GMT

سعودی عرب: تیل کی جگہ شمسی توانائی کی بڑی طاقت بننے کی تیاری

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

سعودی عرب نے توانائی کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کی جائے گی۔

تیل پر انحصار کرنے والے اس ملک نے اب اپنے صحراؤں کو سولر پینلز سے ڈھانپنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو سستی اور ماحول دوست توانائی سے پورا کیا جا سکے۔ اس وقت سعودی عرب میں 4340 میگاواٹ بجلی شمسی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے، جو 2023 میں 2585 میگاواٹ تھی۔

سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (PIF) کی مدد سے ACWA پاور اور آرامکو پاور جیسے ادارے 8.

3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے چلا رہے ہیں، جن میں 1.5 گیگاواٹ سودیر سولر پراجیکٹ بھی شامل ہے۔ عالمی کمپنیاں جیسے ٹوٹل انرجیز اور ای ڈی ایف بھی سعودی عرب کے سولر منصوبوں میں شریک ہیں۔

ماہرین کے مطابق شمسی توانائی سے نہ صرف اربوں ڈالر بچائے جا سکیں گے بلکہ خام تیل کو برآمد کے لیے محفوظ کرنا بھی ممکن ہوگا۔ چین کی وجہ سے سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج کی قیمتیں کم ہونے سے یہ توانائی مزید سستی ہوگئی ہے۔ حالیہ نیلامیوں میں بجلی کی قیمت 1.3 سینٹ فی کلو واٹ آور سے بھی کم رہی، جو تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے سستی ہے۔

ریگستانی ماحول، شدید گرمی اور ریت کے طوفان سولر پینلز کے لیے چیلنج ضرور ہیں، لیکن سعودی عرب کا ہدف یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں شہروں اور صنعتوں کو سورج کی روشنی سے چلایا جا سکے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان

---فائل فوٹو 

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں  جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔

خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔

ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔ 

خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار