سعودی عرب: تیل کی جگہ شمسی توانائی کی بڑی طاقت بننے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
سعودی عرب نے توانائی کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کی جائے گی۔
تیل پر انحصار کرنے والے اس ملک نے اب اپنے صحراؤں کو سولر پینلز سے ڈھانپنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو سستی اور ماحول دوست توانائی سے پورا کیا جا سکے۔ اس وقت سعودی عرب میں 4340 میگاواٹ بجلی شمسی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے، جو 2023 میں 2585 میگاواٹ تھی۔
سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (PIF) کی مدد سے ACWA پاور اور آرامکو پاور جیسے ادارے 8.
ماہرین کے مطابق شمسی توانائی سے نہ صرف اربوں ڈالر بچائے جا سکیں گے بلکہ خام تیل کو برآمد کے لیے محفوظ کرنا بھی ممکن ہوگا۔ چین کی وجہ سے سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج کی قیمتیں کم ہونے سے یہ توانائی مزید سستی ہوگئی ہے۔ حالیہ نیلامیوں میں بجلی کی قیمت 1.3 سینٹ فی کلو واٹ آور سے بھی کم رہی، جو تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے سستی ہے۔
ریگستانی ماحول، شدید گرمی اور ریت کے طوفان سولر پینلز کے لیے چیلنج ضرور ہیں، لیکن سعودی عرب کا ہدف یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں شہروں اور صنعتوں کو سورج کی روشنی سے چلایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔