اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹی چوک فلائی اوور کا منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا، ریل کار کے مجوزہ منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید آسانیاں میسر آئیں گی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ٹی روڈ تا اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے جنکشن (ٹی چوک) میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کلومیٹر طویل فلائی اوور جڑواں شہروں اور دیگر علاقوں کو جانے میں سہولت فراہم کرے گا۔

انہوں نے منصوبے کے لیے وزیر داخلہ اور سی ڈی اے حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے، پاکستان 2027ء میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ کی میزبانی کرے گا، جس کے لیے ابھی سے تیاریوں کا آغاز کرنا ہوگا۔

انہوں نے اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان نے تحفے میں مختلف اقسام کے پودے دیئے ہیں جو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے، چند ہفتوں میں شاہراہ دستور کے اطراف خوبصورت پھول نظر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی پنڈی، اسلام آباد میں سفری سہولت کے نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، ریل کار کے منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید سہولت ملے گی، جب کہ میٹرو بس سروس کے علاوہ ماحول دوست ای وی ٹرانسپورٹ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ٹی چوک فلائی اوور منصوبہ 150 دن میں مکمل کیا جائے گا اور اعلیٰ معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر ایک ارب 49 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئے گی، فلائی اوور کی تعمیر سے یومیہ 41 ہزار 572 گاڑیوں کو آمد و رفت میں آسانی ہوگی، فلائی اوور کا ڈیزائن نیسپاک نے تیار کیا ہے جو ایک کلومیٹر سے زائد طویل اور 11.

30 میٹر چوڑا ہوگا، اس کے ساتھ اسٹریٹ لائٹس اور ہارٹیکلچر کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلائی اوور اسلام آباد ٹی چوک کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے