سوشل میڈیا جن قابو سے باہر ہو رہا ہے، بے لگام مواد برداشت نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا جن بے قابو ہو رہا ہے لہٰذا اب اس پر بے لگام مواد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیک نیوز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر لائحہ عمل تشکیل دیا جانا ضروری ہے، عطا اللہ تارڑ
صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے سوشل میڈیا پر ’غیر ذمہ دارانہ رویے اور بے بنیاد مواد کے پھیلاؤ‘ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص کی عزت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جو چاہے وہ لکھ دیا جاتا ہے جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر باعزت شخص کی پگڑی اچھالی جا رہی ہے اور یہ روش ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے ایوان پر زور دیا کہ ہمیں مل کر قانون ساز اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اس سنگین مسئلے کا تدارک کرنا ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح الفاظ میں کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیے: بھارتی خلائی مشن کا پول کھل گیا، ’فیک نیوز واچ ڈاگ‘ کی چشم کشا رپورٹ منظرِ عام پر
انہوں نے کہا کہ ایسا مواد معاشرے میں انتشار کا باعث بنتا ہے اور ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
زیارت اراضی منتقلی: قبائلی اتفاق رائے حاصل کر لیا گیااپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ زیارت میں محکمہ جنگلات کو اراضی کی منتقلی کے حوالے سے تمام متعلقہ قبائل کو اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام اپنے دفاع کے لیے ہے، اسحاق ڈار نے فیک نیوز کی تردید کردی
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ پر فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو شامل کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے مالی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بے لگام سوشل میڈیا سوشل میڈیا سوشل میڈیا کا جن بے قابو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بے لگام سوشل میڈیا سوشل میڈیا سوشل میڈیا کا جن بے قابو وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سوشل میڈیا پر کہ سوشل میڈیا انہوں نے کیا جا کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔