شمالی کوریا میں غیر ملکی میڈیا دیکھنے پر سزائے موت میں اضافہ: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت مبینہ طور پر سزائے موت کے نفاذ میں اضافہ کررہی ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو غیر ملکی فلمیں یا ڈرامے دیکھتے اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں جبری مشقت اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں شمالی کوریا نے اپنے شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو پر کنٹرول مزید سخت کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا یوکرین کیخلاف روس کی مدد کے لیے 20 ہزار فوجی بھیج رہا ہے، یوکرینی انٹیلجنس رپورٹ
رپورٹ کے مطابق ’دنیا میں کوئی اور آبادی ایسی سخت پابندیوں کے تحت نہیں جی رہی‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نگرانی مزید وسیع اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مؤثر ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو شمالی کوریائی عوام کو مزید تکالیف، جبر اور خوف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ رپورٹ اُن 300 افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو گزشتہ 10 برسوں میں شمالی کوریا سے فرار ہوئے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ شمالی کوریا میں سزائے موت کے نفاذ میں اضافہ ہورہا ہے۔ سن 2015 کے بعد کم از کم 6 نئے قوانین نافذ کیے گئے جن میں موت کی سزا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام
ان جرائم میں غیر ملکی میڈیا، فلموں اور ڈراموں کو دیکھنا اور شیئر کرنا بھی شامل ہے۔ فراری افراد نے بتایا کہ 2020 کے بعد غیر ملکی مواد تقسیم کرنے والوں کو زیادہ تعداد میں پھانسیاں دی گئیں۔
یہ سزائیں عوامی مقامات پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جاتی ہیں تاکہ لوگوں میں خوف پیدا کیا جاسکے۔
اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے بدنام زمانہ سیاسی قیدی کیمپوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
تازہ ترین تحقیق میں تصدیق کی گئی ہے کہ کم از کم 4 کیمپ اب بھی چل رہے ہیں، جبکہ عام جیلوں میں بھی قیدیوں کو تشدد، جبری مشقت اور بھوک سے مارا جارہا ہے۔
بہت سے فراریوں نے بتایا کہ انہوں نے قیدیوں کو بُری حالت، بھوک اور زیادتیوں کے باعث مرتے دیکھا۔ تاہم کچھ معمولی بہتری کی خبریں بھی سامنے آئیں، جیسے کہ جیل کے عملے کی جانب سے تشدد میں معمولی کمی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ نے جوہری ہتھیاروں میں فوری اضافے کے لیے کمر کس لی
اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیمپ ختم کرے، سزائے موت کا خاتمہ کرے اور عوام کو اُن کے بنیادی انسانی حقوق سے آگاہ کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقوام متحدہ پابندیاں سزائے موت شمالی کوریا غیر ملکی میڈیا کم جونگ میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پابندیاں سزائے موت شمالی کوریا غیر ملکی میڈیا میڈیا اقوام متحدہ شمالی کوریا سزائے موت غیر ملکی کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔