مال گاڑی حادثہ؛ پچھلی ٹرین کا ڈرائیور، اگلی کا گارڈ اور اسٹیشن ماسٹر ذمہ دار قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
لاہور:
حبیب آباد اور رینالہ خورد کے درمیان گزشتہ روز دو مالی گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کی جوائنٹ سرٹیفکیٹ رپورٹ سامنے آگئی۔
جوائنٹ سرٹیفکیٹ رپورٹ میں پچھلی ٹرین کے ڈرائیور، اگلی ٹرین کے گارڈ اور اسٹیشن ماسٹر رینالہ خورد کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیشن ماسٹر رینالہ خورد نے پوری ٹرین پہنچنے کو یقینی بنائے بغیر پیچھے سے آنے والی مال گاڑی کے لیے کلیئرنس سگنل دیا۔ پہلی ٹرین کا گارڈ مطلوبہ سیفٹی اقدامات لینے اور اسٹیشن ماسٹر کو اطلاع دینے میں ناکام رہا۔
ٹرین ڈرائیور نے کاشن آرڈرز پر عمل نہیں کیا، لائن پر اگلی مال گاڑی کے لوڈ کو نہ دیکھ سکا اور اوور اسپیڈ کے باعث کنٹرول نہ کر سکا۔ مال گاڑیوں کے حادثے میں ٹکرانے والی گاڑی کا اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور امتیاز جاں بحق ہوگیا تھا۔
ابتدائی رپورٹ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کو ارسال کر دی گئی۔
وفاقی وزیر ریلوے نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے حادثے کی مفصل رپورٹ مانگی تھی۔ مال گاڑیوں کے حادثے کی وجہ سے مسافر ٹرینوں کا شیڈول درہم برہم ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیشن ماسٹر مال گاڑی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔