رکن سندھ اسمبلی روما مشتاق مٹو کا بلاول بھٹو کی سیلاب متاثرین کےلیےکی جانےوالی کوششوں کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
سندھ اسمبلی کی رکن اور پارلیمانی سیکریٹری برائے محکمہ اقلیتی امور، رُوما مشتاق مٹو نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی کوششوں اور ان کے وژن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
رُوما مشتاق مٹو نے کہا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کا سیلاب زدگان کے لیے عزم اور درد مندی لاکھوں متاثرہ خاندانوں کے لیے روشنی کی کرن ہے، چیئرمین بلاول بھٹو نے ہمیشہ غریب، کسان، مزدور اور پسے ہوئے طبقے کی آواز بن کر قیادت کی ہے، آج بھی ان کی اولین ترجیح سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی کے اعلان کا کریڈٹ بلاول بھٹو زرداری کی بصیرت کو جاتا ہے، جنہوں نے پورے ملک کی توجہ اس انسانی المیے کی طرف مبذول کرائی۔
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کی جانب سے ریلیف پیکج کا یقین دلایا جانا خوش آئند تھا، مگر تاحال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کوئی واضح ریلیف سامنے نہ آنا باعثِ تشویش ہے، چیئرمین بلاول بھٹو نے درست نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے۔
رُوما مشتاق مٹو نے مزید کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی ہر ایوان اور ہر فورم پر سیلاب متاثرین کی آواز بنے گی، بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت کسانوں اور دیہی معیشت کی بحالی کے لیے عملی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ تباہ شدہ زرعی شعبے کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے متاثرہ اضلاع کے دورے بلاول بھٹو کی عوام دوستی اور خدمت کے جذبے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہی وہ عوامی سیاست ہے جس پر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن استوار تھا، اور آج چیئرمین بلاول بھٹو اسی تسلسل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین بلاول بھٹو بلاول بھٹو زرداری سیلاب متاثرین مشتاق مٹو نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔