کانگو میں کشتی الٹنے سے 86 افراد ہلاک، اکثریت طلبا کی ہے
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
افریقی ملک کانگو کے صوبے ایکویٹیئر میں ایک موٹر بوٹ الٹنے کے باعث کم از کم 86 افراد ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے کی ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ کشتی پر گنجائش سے زائد مسافروں اور سامان کا لادا جانا سامنے آیا ہے۔
علاوہ ازیں اس سفر کے لیے رات کا انتخاب کیا گیا جو درست نہ تھا اور کوئی حفاظتی انتظامات بھی بروئے کار نہیں لائے گئے تھے۔
فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کشتی کی منزل کیا تھا اور کیوں رات گئے سفر پر نکلے تھے۔
ادھر مقامی سول سوسائٹی تنظیم نے اس واقعے کا الزام حکومت پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس الزام پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کانگو میں کشتیوں کے الٹنے کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ مقامی آبادی ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کی بجائے نسبتاً سستی لکڑی کی کشتیوں پر سفر کو ترجیح دیتی ہے۔
ان کشتیوں میں نہ تو لائف جیکٹس دستیاب ہوتی ہیں اور نہ ہی گنجائش کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اکثر کشتیاں رات کے وقت روانہ کی جاتی ہیں جس کے باعث حادثات کی صورت میں امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہوجاتی ہیں اور کئی لاشیں لاپتا رہتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ
روم؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔ چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔ پولیس نے تحقیقات کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہے کہ اطلاع ہے کہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ اطالوی حکام سے رابطہ میں ہے۔