سیلاب متاثرین کی گھروں کو واپسی میں 1 سے ڈیڑھ ماہ لگ سکتے ہیں، وزیر تعلیم پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 3700 اسکولوں کو نقصان پہنچا، سیلاب متاثرین کی گھروں کو واپسی میں ایک سے ڈیڑھ ماہ لگیں گے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 3700 اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ابھی بھی کئی اسکولز سیلاب کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ریلیف کیمپ میں ایک اسکول قائم کیا گیا ہے، ریلیف کیمپس میں ہم 3 شفٹس میں اسکول چلا رہے ہیں۔
وزیر تعلیم پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے سیلاب متاثر کے لیے قائم ریلیف کیمپس کے لیے اسکولز کھولے ہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو گھروں میں واپس پہنچنے میں کم از کم 1 سے ڈیڑھ ماہ لگیں گے، سیلاب متاثرین کو خیمے فراہم کیے ہیں۔ یہ ریلیف کیپمس 19 مختلف مقامات پر لگائے گئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تنیوں دریاؤں میں پانی کا بہاو کافی زیادہ تھا جبکہ بارشیں بھی ہوئیں، ہمارے لیے لوگوں کی جان بچانا زیادہ اہم تھا، ہم نے سیلاب متاثرین کے جانوروں کو بھی بچایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔