حکومت نے آئی ایم ایف سے سیلاب متاثرین کے بجلی بل 3 ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی درخواست کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
حکومت نے آئی ایم ایف سے سیلاب متاثرین کے بجلی بل 3 ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی درخواست کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: حکومت نےآئی ایم ایف سےسیلاب متاثرین کے بجلی بل تین ماہ کیلئے مؤخرکرنےکی درخواست کردی ہے،آئی ایم ایف نےنقصانات کا ڈیٹا طلب کرلیا،پاور ڈویژن ڈیٹا اسی ہفتے فراہم کرے گا۔
حکومت نے سیلاب سےمتاثرہ علاقوں کے مکینوں کیلئے آئی ایم ایف سے بجلی کےبلوں میں ریلیف مانگ لیا، وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے بجلی بل مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے،حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرین کیلئے مختلف ریلیف آپشنز پر غور کر رہی ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دینے اور فلڈ پیکج دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
حکام وزارت خزانہ کےمطابق حکومت زرعی ایمرجنسی کا اعلان کرچکی،فارمرز سپورٹ پیکج جلد متوقع ہے،سیلاب سے گجرات،گوجرانوالہ،سیالکوٹ، نارووال،قصور،مظفرگڑھ، ملتان اور بہاولپور شدید متاثر 6 ہزار سے زائد مویشی بہہ گئے، چاول کی فصل بری طرح متاثر ہوئی۔
حکام کےمطابق سیلاب سےاب تک 13 لاکھ ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ،لاکھوں افراد بےگھرہوچکے،لاہور، گوجرانوالہ،فیصل آباد اور ملتان الیکٹرک کے صارفین متاثر، سکھر الیکٹرک پر بھی اثرات متوقع ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقطر: دنیا کے انتشار میں مفاہمت کا مینارِ نور اگر میئر بنا تو نیتن یاہو کی نیویارک آمد پر گرفتاری کا حکم دوں گا، زہران ممدانی حسان نیازی کی ملٹری کورٹ کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کےلئے مقرر فیڈرل کانسٹیبلری کا ہیڈکوارٹر پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حق میں اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹر کو ہنگامی اپیل مریم نواز کا رحیم یار خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ ،گھروں کی بحالی کی یقین دہانی روس میں 7.4 شدت کے زلزلے سے زمین لرز اُٹھی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف سے حکومت نے بجلی بل
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔