پنجاب حکومت کی گرین ای ٹیکسی اسیکم کیا ہے، کون اپلائی کرسکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
پنجاب حکومت کا گرین ای ٹیکسی پلان 2025 نوجوانوں کے لیے روزگار اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ میں ایک نیا انقلاب لانے جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مرد و خواتین کو ای ٹیکسیاں بلاسود قرضوں پر دی جائیں گی، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان
اس اسکیم کے تحت اہل افراد کو آسان اقساط پر الیکٹرک اور ہائبرڈ ٹیکسیاں فراہم کی جائیں گی۔
یہ منصوبہ نہ صرف نوجوانوں کو پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دے کر ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائے گا۔
صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کے مطابق پہلے مرحلے میں 1،100 ای ٹیکسیاں آسان اور بغیر سود اقساط کی فراہم کی جائیں گی جن میں 30 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے وا لے افراد اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ’میگنیفیسنٹ پنجاب‘ میگا ٹورسٹ منصوبہ کیا ہے؟
دیوان موٹرز کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی اور ہونری VC20 اور VC30 ماڈلز دیے جائیں گے جن کی بیٹری رینج بالترتیب 200 کلومیٹر اور 300 کلومیٹر فی چارج ہوگی۔
لاہور میں ہر 5 سے 7 کلومیٹر پر چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔
ڈاؤن پیمنٹ کتنی دینی ہوگی؟اس منصوبے کے تحت حکومت 65 لاکھ روپے کا بغیر سود قرض دے گی جبکہ گاڑی حاصل کرنے کے لیے 18 سے 20 لاکھ روپے کی ڈاؤن پیمنٹ دینی ہوگی جس پر حکومت کی طرف سے مزید معاونت پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس قرض کی ماہانہ قسط 55 سے 60 ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔
اہلیت کا معیاراسکیم میں شامل ہونے کے لیے لازمی ہوگا کہ درخواست گزار پاکستانی شہری ہو اور اس کا پنجاب کا ڈومیسائل ہو۔ عمر21 سے 45 سال کے درمیان ہو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس ہو جس کی معیاد ختم نہ ہوئی ہو۔ پاسپورٹ سائز فوٹو، ڈومیسائل یا یوٹیلیٹی بل ایڈریس کی تصدیق کے لیے اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کروانی ہوں گی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ریل کار چلانے کی تیاری، وزیراعظم نے حکام کو کیا ہدایات کیں؟
یہ اسکیم کم آمدنی والے افراد کے لیے ہے۔ زیادہ آمدنی والے یا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد اس اسیکم کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
ایک سے زیادہ گاڑیوں کے خواہشمند افراد کو این ٹی این یا کاروباری معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔
درخواست دینے کا طریقہ کارآن لائن رجسٹریشن سرکاری پورٹل پر قومی شناختی کارڈ اور فون نمبر کے ذریعے رجسٹریشن کرنی ہوگی۔ ون ٹائم پاسورڈ کے ذریعے رجسٹریشن کی تصدیق ہوگی۔
دستاویزات کی منظوری کے بعد کامیاب امیدوار بینک کے عمل کو مکمل کرے گا اور ٹیکسی کی حوالگی کا شیڈول حاصل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں تاریخی ریسکیو آپریشن، وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان متوقع
پنجاب حکومت نے تمام خواہشمند امیدواروں سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد درخواستیں جمع کرائیں کیوں کہ اسکیم کی آخری تاریخ کا اعلان سرکاری پورٹل پر جلد کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ صوبے کو ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای ٹیکسی اسکیم پنجاب پنجاب میں روزگار ماحول دوست ٹرانسپورٹ نوجوانوں کے لیے روزگار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای ٹیکسی اسکیم پنجاب میں روزگار ماحول دوست ٹرانسپورٹ نوجوانوں کے لیے روزگار کے لیے کرے گا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔