وزیراعظم کا ترک نژاد خاتون کی ترکیہ واپسی پر جہاز سے آف لوڈ کرنیکی شکایت کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر ترک نژاد خاتون کی ترکیہ واپسی پر جہاز سے آف لوڈ کرنے کی شکایت کا نوٹس لے لیا۔
ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے ترک نژاد خاتون نسلیحان سے ملاقات کر کے انکی واپسی کا مسئلہ فوری طورپر حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر ترک نژاد خاتون نسلیحان کی ایئر پورٹ پر ترکیہ جاتے ہوئے آف لوڈ کرنے کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر محمد افضال بھٹی کو متاثرہ اوورسیز خاتون کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔
ایم ڈی او پی ایف محمد افضال بھٹی نے لاہور میں ترک نژاد خاتون نسلیحان سے ملاقات کرکے انکی ترکیہ واپسی کا مسئلہ جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
اس موقع پر ترک نژاد خاتون نسلیحان نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور ایم ڈی او پی ایف محمد افضال بھٹی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ میرا مسئلہ اب بہت جلد حل ہو جائے گا اور میں اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ اپنی ماں سے ملنے ترکیہ جا سکوں گی۔
ترک نژاد خاتون کا کہنا تھا کہ حکومتی نوٹس کے بعد دوبارہ کبھی بھی انہیں اس طرح کا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا، کیونکہ اب ترکیہ کے ساتھ پاکستان بھی میرا وطن ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افضال بھٹی کا مسئلہ کرنے کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔