پاکستانی نژاد جرمن ماڈل فیا خان کی دوسری شادی بھی اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستانی نژاد جرمن ماڈل صوفیا خان المعروف فیا خان نے اپنی دوسری شادی ختم ہونے کا اعلان کردیا۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصویر میں فیا خان نے اپنی طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ 43 سال کی عمر میں ایک بار پھر طلاق ہوگئی لیکن اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہوں۔
ماڈل نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور سمجھدار ہیں اور اب بھی ہار نہیں مانی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر اُٹھوں گی۔ فیا خان نے مداحوں سے درخواست کی کہ ذاتی سوالات نہ کریں، جو ہونا تھا وہ ہو گیا، بس دعا میں یاد رکھیں۔
فیا خان نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ خوشگوار لمحات کی تصاویر بھی شیئر کیں اور مداحوں سے کہا کہ وہ انہیں اور ان کی بیٹیوں کو دعاؤں میں شامل رکھیں۔
View this post on InstagramA post shared by ???????????? ???????????????? (@fia_sofiakhan)
یاد رہے کہ فیا خان نے 2019 میں ترک نژاد کاروباری شخص تولگا ریکن سے شادی کی تھی، بعد ازاں 2022 میں جرمنی میں نکاح رجسٹر کرانے کے لیے کورٹ میرج بھی کی۔ ان کی ایک بیٹی ہے۔ اس سے قبل ان کی پہلی شادی 2009 میں اداکار و ہدایت کار قاسم علی مرید سے ہوئی جو 2015 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ پہلی شادی سے ایک بیٹی ہے جبکہ شادی سے قبل انہوں نے ایک بیٹی کو گود لیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیا خان نے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔