گوگل کے جیمینی نینو بنانا ایپ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
گوگل کی جیمینی ایپ کے تحت متعارف کرایا گیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹول نینو بنانا سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ یہ ٹول اپنی تیز ترین رفتار، فوٹو ریئلسٹک کوالٹی اور آسان استعمال کے باعث صارفین کو حیران کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا نیا سنگ میل، ’جیمنی 2.5 ڈیپ تھنک‘ ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
نینو بنانا صرف چند سیکنڈز میں عام تصاویر کو شاندار اور نہایت حقیقی مناظر میں بدل دیتا ہے، جس کی بدولت لاکھوں صارفین اسے وائرل مواد بنانے کے لیے آزما رہے ہیں۔
یہ ٹول اس وقت خاص طور پر چند تخلیقی انداز کے باعث مقبول ہوا ہے۔ صارفین اپنی تصویر کو ایک کلیکٹیبل فگرین میں بدلوا رہے ہیں، جسے کھلونے کے ڈبے میں ان کے نام اور گرافکس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ اسٹور سے خریدا گیا کوئی ایکشن فگر ہو۔
اسی طرح لوگ مشہور مصوری کا حصہ بھی بن رہے ہیں، جیسے وین گوگ کی اسٹاری نائٹ میں داخل ہو کر اسی آرٹ کے انداز میں گھل مل جانا۔ کئی صارفین دنیا کے معروف مقامات پر اپنی موجودگی دکھا رہے ہیں، مثلاً ایفل ٹاور کے سامنے ایک پرفیکٹ تصویر، کم سیاحوں اور صاف منظر کے ساتھ۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل اے آئی نے زمین پر خلائی مخلوق کے پوشیدہ ٹھکانوں کی نشاندہی کردی
اس کے علاوہ بعض تصاویر کو سنیما طرز کے ایڈیٹوریل پورٹریٹ میں بدلا جارہا ہے، جہاں ڈارک اسٹوڈیو میں دھندلا دھواں اور روشنی کا خاص تاثر دیا جاتا ہے، جیسے کسی فلم کا پوسٹر ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ نئے انداز سوشل میڈیا پر دلچسپی بڑھانے اور صارفین کے لیے غیرمعمولی تخلیقی امکانات فراہم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اے آئی جیمینی ڈیٹنگ ٹول نینو بنانا گوگل مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی گوگل مصنوعی ذہانت رہے ہیں
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔