سیلابی ریلے پنجاب کے بعد سندھ میں داخل، گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے کئی دیہات ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
پنجاب سے آنے والا سیلاب سندھ میں مختلف مقامات پر تباہی پھیلا رہا ہے۔ گڈو بیراج پر اونچے، سکھر بیراج پر درمیانے اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب میں مون سون بارشوں کے گیارہویں اسپیل کا الرٹ بھی جاری کردیا گیا۔
سکھر میں دریائے سندھ کی تیز لہروں کے باعث کچے کے کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں، جس سے 30 فیصد سے زیادہ بستیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ اب تک سکھر ڈویژن سے 75 ہزار سے زیادہ افراد اور قریباً 3 لاکھ مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سندھ میں گدو بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری کردیا گیا
گھوٹکی میں قادرپور اور رونتی کے دیہات زیرِ آب آنے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ دادو کی تحصیل میہڑ کے کچے میں بھی دریا کی سطح بلند ہوگئی ہے، جبکہ ساڑھے تین لاکھ کیوسک کا ریلا پہلے سے ہی سیلاب زدہ سیہون کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے آئندہ ایک دو روز میں مزید بڑے پیمانے پر تباہی کا اندیشہ ہے۔
نواب شاہ میں بھی سیلاب نے 20 سے زیادہ دیہات ڈبو دیے، جہاں متاثرہ خاندان اپنے گھریلو سامان، اناج اور مال مویشی کے ہمراہ محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔
صادق آباد: دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
بنگلہ دلکشا کےقریب نبی شاہ میں زمیندارہ بند ٹوٹ گیا
بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی دیہات میں داخل
ہزاروں ایکٹر پرکاشت فصلیں اور درجنوں بستیاں زیرآب
رابطہ سڑکیں پانی میں ڈوبنے سے مکین گھروں میں محصور pic.
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) September 13, 2025
وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ سکھر
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی ضرور آئی ہے لیکن اردگرد کے علاقوں میں سیلابی اثرات برقرار ہیں۔
اسی تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سکھر بیراج پہنچے جہاں انہوں نے سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کے میڈیا کنسلٹنٹ عبدالرشید چنا کے مطابق صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھڈو نے انہیں موجودہ حالات پر بریفنگ دی۔
پنجاب میں پنجند کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب
ادھر مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ علی پور، سیت پور اور قریبی علاقے پانی میں گھرے ہوئے ہیں، جہاں لوگ کئی فٹ پانی میں ڈوبی بستیوں سے نکلنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے علی پور اور سیت پور کا دورہ کرکے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا اور ان کے حوصلے بڑھائے۔
دیگر اضلاع کی صورتحال
بہاولنگر میں 160 کلومیٹر طویل دریائی پٹی مسلسل سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ گھروں، مساجد، مدارس اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ایک مدرسے کی عمارت منہدم ہوتے دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہوگئے۔
کئی مقامات پر شہری اپنی موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان گدھا گاڑیوں کے ذریعے پانی سے گزار کر لے گئے، حتیٰ کہ کشتیوں پر ٹریکٹر ٹرالیاں رکھ کر بھی سامان منتقل کیا گیا۔
خانیوال میں متاثرہ افراد کو ان کے مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے، جہاں انہیں چارہ اور ویکسین بھی فراہم کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے سیلاب متاثرین کو کہاں آباد کیا جا رہا ہے؟
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دریاؤں کے کناروں پر سیر و تفریح سے گریز کریں۔
مون سون بارشوں کا نیا الرٹ
پی ڈی ایم اے پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ 16 سے 19 ستمبر کے دوران گیارہویں اسپیل کی بارشیں متوقع ہیں، جس سے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سکھر بیراج سندھ سیلاب سے تباہی گڈو بیراج مراد علی شاہ مون سون اسپیل وزیراعلیٰ سندھ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سکھر بیراج سیلاب سے تباہی گڈو بیراج مراد علی شاہ مون سون اسپیل وزیراعلی سندھ وی نیوز اونچے درجے کا سیلاب پر اونچے درجے مقامات پر پانی میں
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔