بلاول بھٹو زرداری کا شنگھائی کی فودان یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
تقریب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے طلبہ کے عالمی تعلقات عامہ سے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیئے اور پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چین کی 120 سالہ قدیم فودان یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کی ملاقات یونیورسٹی کے نائب صدر ڈاکٹر چن زھیمِن سے ہوئی، جس میں بین الاقوامی تعلقات عامہ سمیت اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری نے فودان یونیورسٹی کے طلبہ سے ملاقات کی اور ’’پاک چین دوستی کا ماضی، حال اور مستقبل‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس سے قبل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر سَن ڈے گانگ نے ابتدائی کلمات ادا کیے۔ تقریب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے طلبہ کے عالمی تعلقات عامہ سے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیئے اور پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔