5 ویں جماعت کے لاپتا طالبعلم پر چرس کا مقدمہ قائم
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) تعلقہ سندھڑی کے گوٹھ آچر مری سے 5 روز قبل لاپتہ ہونے والا پانچویں جماعت کی طالب علم چنیسر مری کے خلاف ایکسائز انسپکٹر شاہنواز زرداری کی جانب سے چرس رکھنے کے مقدمے کے اندراج کے خلاف نوجوان کے ورثاء، پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں اور مری برادری کے افراد نے احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نوجوان کے خلاف جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے اور ایکسائز انسپکٹر شاہنواز زرداری کو ہٹایا جائے اس موقع پر مظاہرین نوجوان کے والد جاڑو مری، ضلع کونسل کی خاتون رکن عابدہ لاشاری، نصیر خان مری، نہال مری، آچن مری اور دیگر نے کہا کہ ایکسائز پولیس نے 5 روز قبل ہمارے بیٹے چنیسر مری اسکول سے چھٹی کے بعد گھر آ رہا تھا کہ شہداد پور میں تعینات ایکسائز انسپکٹر شاہنواز زرداری اور ان کے ساتھیوں نے چنیسر مری کو سڑک سے اغوا کر لیا سارا دن تلاش کرنے کے باوجود نہ مل سکا جس کے بعد ایکسائز انسپکٹر شاہنواز زرداری نے فون کے ذریعے ورثاء کو اطلاع دی کہ چنیسر مری ایکسائز پولیس کے پاس ہے جب ہم وہاں پہنچے تو انسپکٹر شاہنواز زرداری نے 6 لاکھ روپے رشوت طلب کی جبکہ چنیسر کے والد مزدور ہے جس کی وجہ سے انسپیکٹر شاہنواز زرداری مشتعل ہو گیا اور چنیسر مری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر سوا کلو چرس برآمدگی دیکھا کر 9C کا مقدمہ درج کر دیا ہے جو اب جیل میں ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایکسائز پولیس کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں ہمارے نوجوان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر کے اس کا مستقبل تباہ کرنے کی سازش کی گئی ہے پیپلزپارٹی سے ہماری وابستگی کے باوجود یہاں کے منتخب نمائندوں نے ہماری مدد نیں ک انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی نواب شاہ اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ چنیسر مری کے خلاف درج جھوٹا مقدمہ فوری ختم کیا جائے اور ایکسائز انسپکٹر شاہنواز زرداری کو معطل کیا جائے بصورت دیگر سندھ مری اتحاد کے تحت سندھ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوجوان کے کیا جائے کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔