عمران خان کی اے ٹی سی میں ویڈیو لنک کے بجائے پیش ہونے کیلئے درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 ستمبر ۔2025 )تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 9 مئی مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں ویڈیو لنک کے بجائے پیش ہونے کیلئے درخواست دائر کر دی گزشتہ روز جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی مقدمات کا جیل ٹرائل منسوخ کر کے انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم جمعرات کو عمران خان کی لیگل ٹیم نے وزارت داخلہ پنجاب کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے.
(جاری ہے)
عدالت کے حکم کے مطابق ویڈیو لنک کی کارروائی میں کوئی بھی شخص ریکارڈنگ نہیں کر سکے گا اور عدالت کے اندر موبائل فون یا دیگر ریکارڈنگ ڈیوائسز لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے.
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی کارروائی کی ریکارڈنگ صرف عدالت کی جانب سے کی جا سکے گی اور اگر کسی نے اس ریکارڈنگ کی کوشش کی تو اس کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ویڈیو لنک کی کارروائی کا ٹرانسکرپٹ بھی کسی شخص کو فراہم نہیں کیا جائے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کی ویڈیو لنک کے جی ایچ کیو اے ٹی سی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔