لاہور: گھر میں کیمرے ٹھیک کرنے آنیوالے ٹیکنیشن نے گاہک کو ہتھوڑے مار کر قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں سی سی ٹی وی ٹیکنیشن نے 36 سالہ گاہک کو تلخ کلامی پر ہتھوڑے مار کر قتل کر دیا۔
ملزم نے مقتول کے اہل خانہ کو 24 گھنٹے یرغمال بنا کر رکھا۔ پولیس نے دروازہ توڑ کر لاش نکالی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ڈیفنس کے رہائشی حسن نے کیمروں کی دیکھ بھال کے لیے سی سی ٹی وی ٹیکنیشن ادریس کو گھر بلایا تھا، جہاں تلخ کلامی کے بعد ملزم نے حسن کی اہلیہ، 5 سالہ بیٹی اور ماں کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا کر رسیوں سے باندھ دیا اور حسن کو سر پر ہتھوڑا اور چاقو مار کر قتل کر دیا، ملزم نے لاش ایک کمرے میں لے جا کر خود کو بھی اندر بند کر لیا۔
دوسرے روز رات کو جب مقتول حسن کی عزیزہ گھر پر آئی تو بند دروازہ دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے دروازہ توڑ کر دیکھا تو ملزم نے لاش چادر میں لپیٹ کر رکھی ہوئی تھی اور خود اس کے پاس بیٹھا تھا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔