لندن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد برطانیہ سے وطن واپس روانہ ہو گئے۔

وطن واپسی پر خصوصی طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر لندن کے میئر صادق خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے برطانوی حکام سے درخواست کی تھی کہ میئر لندن کو شاہی ضیافت میں مدعو نہ کیا جائے کیونکہ وہ صادق خان کو ایک عرصے سے ناپسند کرتے ہیں اور نہیں چاہتے تھے کہ وہ ونزر کیسل میں ہونے والی تقریب میں شریک ہوں۔

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ صادق خان اس ضیافت میں شریک ہونا چاہتے تھے لیکن ان کی درخواست پر انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔

انہوں نے صادق خان کو دنیا کے ’بدترین میئرز‘ میں سے ایک قرار دیتے ہوئے لندن میں بڑھتے جرائم اور امیگریشن پالیسیوں کی خرابی کا ذمہ دار بھی انہیں ٹھیرایا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لندن میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور امیگریشن کے حوالے سے صادق خان ایک آفت ثابت ہوئے ہیں۔

???? TRUMP DOUBLES DOWN ON SADIQ KHAN NOT BEING AT STATE BANQUET

“I didn’t want him there.

Perfect. pic.twitter.com/FgTwD2s2MW

— Starmer Sycophant (@sirwg202110) September 18, 2025


واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے ونزر کیسل میں خصوصی عشائیہ دیا گیا تھا، جس میں شاہی خاندان، برطانوی سیاستدانوں اور معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

اس دورے کے دوران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ٹیکنالوجی شراکت داری کے ایک اہم معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صادق خان کو

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا