اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2025ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ”ڈان نیوز“سے وابستہ صحافی عبداللہ مومند کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبداللہ مومند کو محض سوال پوچھنے پر ایک ارب کا نوٹس بھجوانا آزادی صحافت پر حملہ، جمہوری اقدار کی پامالی اور آئین سے انحراف ہے، صحافی کا فرض سوال کرنا ہے اور سوال پر نوٹس بھیجنا نہ صرف غیر آئینی اور غیر قانونی بلکہ ناجائز ہتھکنڈا ہے، ایسے اقدامات کا مقصد صحافیوں کو دبائو میں لا کر ان کی زبان بندی کرنا اور جمہوری کلچر پر کاری ضرب لگانا ہے۔

جمعہ کو اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جمہوری اقدار کا تقاصا ہے کہ سوال کا جواب دلیل اور وضاحت سے دیا جائے نہ کہ صحافیوں کو ہراساں کر کے ڈرانے کی کوشش کی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ہتک عزت کے نوٹس اور سائبر کرائم کی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ طرز عمل ریاستی عہدوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے، ایسے اقدامات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کو انسانی حق تصور کیا جاتا ہے، اس لئے اس نوعیت کے واقعات پاکستان کے مثبت تشخص کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ پی ٹی آئی کا ہر اقدام ملک کے مفاد کی بجائے اس کے خلاف جاتا ہے، آزادی صحافت پر قدغن، اداروں کی تضحیک اور عوامی نمائندوں کو بدنام کرنے کی کوششیں اس جماعت کا وطیرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافی برادری کے ساتھ ہے اور ہر اس اقدام کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگی جو میڈیا کو دبانے یا جمہوری اقدار کو پامال کرنے کی کوشش کرے گا۔\932.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری