سائنسدانوں نے پہلی بار دماغ کے اندر موجود وہ نظام دریافت کیا ہے جو ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے کہ ہم نے کتنا فاصلہ طے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اکثر افراد کو درپیش ’دماغی دھند‘ کیا ہے، قابو کیسے پایا جائے؟

اس تحقیق میں چوہوں اور انسانوں دونوں پر تجربات کیے گئے اور نتائج سے پتا چلا کہ دماغ میں ایک مخصوص فاصلہ گھڑی (مائیلج کلاک) کام کرتی ہے جو چلنے کے ہر چند قدموں پر ’ٹک ٹک‘ کرتی ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’کرنٹ بایالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔

چوہوں پر پہلا تجربہ

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چوہوں کو ایک مستطیل میدان میں دوڑایا اور ان کے دماغ کے اس حصے سے سگنلز ریکارڈ کیے جو یادداشت اور نیویگیشن (راستہ تلاش کرنے) سے متعلق ہوتا ہے۔

یہاں موجود مخصوص خلیے جنہیں گرِڈ سیلز کہا جاتا ہے تقریباً ہر 30 سینٹی میٹر پر متحرک (فائر) ہوتے رہے جس سے پتا چلا کہ یہ دماغ میں فاصلہ ناپنے والے نظام کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیے: ’اور کیسے ہیں؟‘ کے علاوہ بھی کچھ سوال جو آپ کو لوگوں کے قریب لاسکتے ہیں!

تحقیق کے مرکزی محقق پروفیسر جیمز اینج نے بتایا کہ یہ خلیے دماغ کے اس حصے میں ہیں جو ہمیں اپنے اردگرد کا نقشہ ذہنی طور پر بنانے میں مدد دیتا ہے جیسے آپ باورچی خانے سے ڈرائنگ روم تک جا رہے ہوں۔

انسانوں پر بھی تجربہ

اس نظریے کی تصدیق کے لیے ایک بڑا، 12 میٹر لمبا اور 6 میٹر چوڑا میدان بنایا گیا جہاں رضاکاروں کو چوہوں کی طرح ایک مخصوص فاصلہ چلنے کے بعد واپس آنے کا کہا گیا۔

جب میدان مستطیل شکل میں تھا تو انسانوں نے بالکل درست اندازے لگائے لیکن جب میدان کی شکل بدلی گئی تو وہ بھی چوہوں کی طرح فاصلہ اندازہ لگانے میں غلطیاں کرنے لگے۔

ماحول کی تبدیلی سے نظام متاثر

ماحولیاتی تبدیلی جیسے میدان کی شکل بدلنا یا اندھیرا چھا جانا دماغ کی فاصلہ گھڑی کو متاثر کرتا ہے جس سے انسان یا جانور فاصلہ کم یا زیادہ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: الزائمر سے بچاؤ میں مددگار وٹامنز، تحقیق کیا کہتی ہے؟

یہی وجہ ہے کہ دھند یا اندھیرے میں ہم اکثر یہ نہیں جان پاتے کہ کتنا راستہ طے کر چکے ہیں۔

الزائمر کی تشخیص میں ممکنہ مدد

پروفیسر اینج نے مزید بتایا کہ یہ گرڈ سیلز دماغ کے ان ابتدائی حصوں میں پائے جاتے ہیں جو الزائمر کی بیماری میں سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ اسی بنیاد پر ہم مستقبل میں الزائمر کی جلد تشخیص کے لیے موبائل گیمز یا دیگر تجرباتی طریقے تیار کریں جو خاص طور پر فاصلے کا اندازہ لگانے کی صلاحیت کو جانچیں۔

یہ بھی پڑھیے: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟

یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانوں اور جانوروں کے دماغ میں فاصلہ ناپنے کا ایک اندرونی نظام موجود ہے جو ہمیں دنیا میں مؤثر انداز میں نیویگیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی دماغ میں گھڑی دماغی گھڑی قدرتی گھڑی مائلج کلاک وقت کا اندازہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی دماغ میں گھڑی دماغی گھڑی قدرتی گھڑی مائلج کلاک وقت کا اندازہ دماغ کے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ