ابھیشیک سے علیحدگی؟ ایشوریا رائے والدہ کے گھر بار بار کیوں جاتی ہیں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے بچن کی بار بار اپنی والدہ کے گھر جانے کی وجہ سامنے آگئی۔
گزشتہ برس ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن کی علیحدگی سے متعلق افواہوں نے بالی ووڈ انڈسٹری اور مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا تاہم یہ افواہیں وقت کیساتھ دم توڑ گئیں۔ لیکن حالیہ انکشافات سے واضح ہوا ہے کہ ایشوریا رائے اور ان کے شوہر کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ایشوریا کی والدہ ورِندا رائے کے پڑوسی معروف ایڈورٹائزنگ فلم میکر پرہلاد کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ ایشوریا کا اپنی والدہ کے گھر بار بار آنے کا ان کی ازدواجی زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ورندا رائے کے پڑوسی نے بتایا کہ ایشوریا محض اپنی والدہ کی عیادت اور ان سے بےحد محبت کی وجہ سے ان کے گھر جاتی تھیں کیونکہ ان کی والدہ کی طبیعت خراب رہتی ہے اور ایشوریا اپنی بیٹی کے اسکول کے اوقات میں ان کے ساتھ وقت گزارتی تھیں۔
ان کے مطابق ایشوریا اپنی بیٹی آرادھیا کو اسکول چھوڑنے جاتیں اور اپنی والدہ کے پاس آجاتی تھیں اور جب بیٹی کو اسکول سے لینے کا وقت ہوتا تو اس کو لے کر اپنے سسرال واپس لوٹ جاتی تھیں۔
انہوں ایشوریا اور ابھشیک کی طلاق اور خاندانی تنازعات سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایشوریا آج بھی بچن خاندان کا اہم حصہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں طریقے سے نبھا رہی ہیں۔
پرہلاد کاکڑ کہنا تھا کہ ایشوریا اور ابھیشیک نے کبھی ان خبروں پر تبصرہ نہیں کیا کیونکہ وہ ایسی بےبنیاد اور جھوٹی افواہوں پر خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایشوریا رائے اپنی والدہ کہ ایشوریا والدہ کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔