او آئی سی علامتی بلاک‘ پاکستان‘ سعودیہ میں امہ کی قیادت کی صلاحیت ہے: فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر قیصر شیخ کے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے بزنس کمیونٹی کی گفتگو حوصلے کا سبب ہے۔ 78 سال میں ہم علم کی تقسیم کا ذمہ ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی میں ماہرین پیدا کرنا ہوں گے جو ملک کی ضرورت پوری کر سکیں۔ وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر شیخ نے کہا بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں قوم کی فتح ہوئی۔ سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔ کچھ سیاسی جماعتیں ایک ٹیبل پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ فضل الرحمن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ریاست کا موقف ہے مذاکرات ہوں گے۔ اگر صلح کی تجویز آئے تو خدا کا حکم ہے کہ صلح کر لو۔ ایک مضبوط اسلامی بلاک ہونا چاہئے۔ او آئی سی علامتی بلاک ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں مسلم امہ کی قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کو خوش آمدید کہنا چاہئے۔ مسلم دنیا میں جہاں خرابیاں ہیں انہیں ٹھیک کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔