پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ سنگ میل ثابت ہوگا، زبیر موتی والا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی)کے سابق صدر اور چیئرمین بزنس مین گروپ ( بی ایم جی) محمد زبیر موتی والا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان اسٹرٹیجک دفاعی باہمی معاہدہ طے پانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کو پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اور سلامتی پوری امت مسلمہ کا مقدس فریضہ ہے۔انہوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی کابینہ کو اس تاریخی معاہدے پر مبارکباد دی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی اسٹریٹجک جہد تک لے جائے گا اور دنیا کو یہ واضح پیغام ملے گا کہ دونوں ممالک کی دفاع، سلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک میں سے کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت کے طور پر دیکھا جائے گا جو دونوں ممالک کے عوام بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند امر ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی تعاون پر مبنی ہے تاہم اس کے طویل مدتی اثرات صرف سلامتی تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ یہ دونوں ممالک کے لیے اقتصادی، صنعتی اور سماجی تعاون کے وسیع تر مواقع پیدا کرے گا نیز اس طرح کی پیشرفت تعلیم و تربیت کے شعبے میں بھی تعاون کو بڑھا ئے گی جس سے تعلیمی تبادلے، اسکالرشپس اور تکنیکی پروگرامز کے مزید مواقع ملیں گے جو پاکستان کی انسانی وسائل کی صلاحیت کو بڑھانے اور نکھارنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ اس معاہدے کی بدولت مشترکہ تربیتی مراکز قائم ہونے کا امکان ہے جو پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیتوں سے مزین کریں گے۔اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان کی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکے گا بلکہ سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک میں جہاں لاکھوں پاکستانی پہلے ہی کام کر رہے ہیں ان کی خدمات میں بھی اضافہ کرے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ تعلیم اور مہارت کی ترقی کے علاوہ انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی میں بھی تیزی آئے گی۔ سعودی عرب کی پاکستان کے بندرگاہوں، ہائی ویز اور شہری ترقیاتی منصوبوں میں جدیدیت کے عمل کو تیز کرے گی جبکہ اسٹیل، سیمنٹ، کھاد اور دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبے نئی اقتصادی مواقع پیدا کرنے کا باعث بنیں گے۔انہوں نے پیٹروکیمیکلز اور توانائی کے شعبے میں ترقی کے امکانات پر خصوصی طور پر زور دیا کیونکہ پاکستان سعودی عرب کی مہارت اور سرمایہ کاری سے پیٹرولیم ریفائنری پلانٹس، قابل تجدید توانائی اور تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زبیر موتی والا سعودی عرب کے دونوں ممالک انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔