پی ٹی آئی کی خدیجہ شاہ نے سرکاری جلانے کے الزام میں ملنے والی 5 سال قید کی سزا کو چلینج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی حامی اور مشہور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ خدیجہ شاہ نے سرکاری گاڑی جلانے کے مقابلے میں سنائی گئی قید کی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چلینج کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جناح ہاؤس کے قریب سرکاری گاڑی جلانے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی لاہور کی عدالت سے سنائی گئی پانچ سال قید کی سزا کے خلاف خدیجہ شاہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
خدیجہ شاہ نے اپنے وکیل سمیر کھوسہ کی وساطت سے اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے قانون کے تقاضوں کے برعکس فیصلہ سنایا۔
درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے حقائق کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا اور شواہد کو نظرانداز کیا گیا۔
اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر خدیجہ شاہ کو بری کیا جائے۔
واضح رہے کہ عدالت نے اس مقدمے میں شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کو بری جبکہ یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کو 10 ، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خدیجہ شاہ نے قید کی سزا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔