عدالت نے کہا ہے کہ پراسیکیوشن آئندہ سماعت پر مختلف نوعیت کے پوائنٹس پر جامع رپورٹ پیش کرے، انوسٹیگیشن، پراسیکوشن، ہیلتھ اور ایف ایس ایل کے متعلقہ حکام اپنی جامع رپورٹ پیش کریں۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائی کورٹ نے فوجداری نظام عدل ( کریمنل جسٹس سسٹم) میں خامیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیتے ہوئے تمام فریقین اور اسٹیک ہولڈرز کو اپنی رپورٹس 14 دن کے اندر پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے فوجداری نظام عدل میں خامیوں کے خلاف درخواستوں پر 20 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ درخواستوں پر سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق چیف جسٹس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں جسٹس سید ارشد علی، جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس صلاح الدین لارجر بینچ میں شامل ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تجاویز کے لیے عدالتی فیصلے کی کاپیاں فوجداری نظام عدل کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ارسال کی جائیں اور تمام فریقین اور اسٹیک ہولڈر اپنی رپورٹس 14 دن کے اندر پیش کریں۔

پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق کریمنل جسٹس سسٹم (فوجداری نظام عدل) میں کئی خامیاں ہیں، پولیس کی تفتیش، پراسیکیوشن، میڈیکل اور ایف ایس ایل(لیب) میں مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق خامیوں کے باعث پورا فوجداری نظام عدل متاثر ہوا ہے، اسی طرح فوجداری نظام اور طریقہ کار مکمل ناکام ہوچکا ہے، فوجداری نظام انصاف میں خامیوں کے باعث شفاف ٹرائل نہیں ہورہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شفاف ٹرائلز نہ ہونے سے صوبے کی شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں، درخواست گزاروں کے مطابق نظام میں خامیوں کے باعث صوبے کے عوام کی جان و مال متاثر ہو رہی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ پراسیکیوشن آئندہ سماعت پر مختلف نوعیت کے پوائنٹس پر جامع رپورٹ پیش کرے، انوسٹیگیشن، پراسیکوشن، ہیلتھ اور ایف ایس ایل کے متعلقہ حکام اپنی جامع رپورٹ پیش کریں۔ پشاور ہائی کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ فوجداری نظام عدل کے تمام اسٹیک ہولڈرز خامیوں سے متعلق مفصل رپورٹ پیش کریں۔ پشاور ہائی کورٹ نے پانچ رکنی لارجر بینچ کی مذکورہ درخواستوں پر سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ نے فوجداری نظام عدل جامع رپورٹ پیش میں خامیوں کے درخواستوں پر لارجر بینچ کے مطابق پیش کریں

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ