یورپی ہوائی اڈوں پر سائبر حملے،پروازیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
برسلز:یورپی ممالک کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملے،پروازیں متاثر،یورپی ممالک کے متعدد بڑے ایئرپورٹس پر نصب چیک ان اور بورڈنگ سسٹمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد کئی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سمیت برسلز اور برلن کے ایئرپورٹس سائبر حملے کی زد میں آئے ہیں۔
ان ایئرپورٹس کے فلائٹ آپریشنز میں خلل پیدا ہو گیا ہے جبکہ کئی پروازیں منسوخ کرنا پڑی ہیں،برسلز ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسافروں کو چیک ان کرنے اور بورڈنگ پاس جاری کرنے والا خودکار سسٹم ناکارہ ہو گیا ہے جس کے باعث صرف مینول طریقے سے مسافروں کو یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ایئرپورٹ انتظامیہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ سائبر حملے سے بڑے پیمانے پر فلائٹ شیڈیول متاثر ہوا ہے اور بدقستمی سے پروازوں میں تاخیر ہو گی یا پھر منسوخ کرنا پڑیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی ’تکنیکی مسئلے‘ کے باعث پروازوں میں تاخیر کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔متاثرہ ایئرپورٹس نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آنے سے پہلے اپنے فلائٹ شیڈیول کی تصدیق کر لیں۔برلن ایئرپورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر پیغام میں کہا کہ یورپ بھر میں سروس فراہم کرنے والے سسٹم میں تکنیکی مسئلے کے باعث چیک ان میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ ہم اس کا جلد از جلد حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق جرمنی میں فرینکفرٹ ایئرپورٹ سائبر حملے کی زد میں نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔