غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی تیاری جاری ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار اور عسکری سامان فروخت کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس پیکج میں حملہ آور ہیلی کاپٹرز، فوجی گاڑیاں اور دیگر معاون پرزہ جات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسپین نے اسرائیل کے ساتھ 825 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدے منسوخ کر دیے
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 3.
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں اپنی کارروائیوں کو مزید وسیع کر دیا ہے اور حماس کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بے گھر فلسطینی محفوظ پناہ گاہ سے محروم ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی اسرائیل کے ساتھ بھرپور عسکری حمایت نے ڈیموکریٹس میں اختلافات کو مزید اجاگر کر دیا ہے، جہاں کئی اراکین اسرائیل پر ہتھیاروں کی فروخت کے مخالف ہیں اور حال ہی میں سینیٹ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد بھی پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ نے لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کے روز اس مجوزہ معاہدے کی خبر دی تاہم وائٹ ہاؤس نے اس پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔