تباہ کن سیلاب، معاشی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کراچی:
ملک میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد نجی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی کی پیشگوئی کر دی ہے، ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مالی سال 2026 کیلیے جی ڈی پی کی شرح نموکا تخمینہ 2.75 فیصدسے 3.25 فیصدکے درمیان لگایا ہے، جو اس سے قبل 3.5 فیصد سے 4.0 فیصدتھا۔
اس سے قبل اسٹیٹ بینک نے بھی پیش گوئی میں کمی کرتے ہوئے شرح نموکو 3.
ٹاپ لائن کے مطابق چاول اورکپاس کی پیداوار میں بالترتیب 15فیصد اور 10 فیصدکمی متوقع ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ نے بھی زرعی پیداوار میں کمی کااندیشہ ظاہرکرتے ہوئے جی ڈی پی کی شرح نموکو 3.46 فیصدسے کم کرکے 3.17 فیصدتک محدودکردیا ہے۔
اے ایچ ایل کے مطابق حالیہ سیلابوں سے ملکی معیشت کو 409 ارب روپے (1.4 ارب ڈالر)کامجموعی نقصان ہوا ہے،جو جی ڈی پی کا 0.33 فیصدبنتا ہے۔ زرعی شعبے کو 302 ارب روپے (0.24 فیصدجی ڈی پی)کا نقصان ہوا،جبکہ ٹرانسپورٹ، مواصلات اور رہائش کے شعبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیزکے ڈائریکٹر ریسرچ شنکر تلریجہ کے مطابق درآمدات میں 10 فیصداضافہ متوقع ہے،جبکہ برآمدات محض 1 فیصد بڑھنے کی توقع ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 0.5 فیصدکے درمیان رہنے کاامکان ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے،گندم اور آٹے کی قیمت میں 38سے40 فیصدجبکہ سبزیوں کی قیمتیں بھی 40 فیصدتک بڑھ گئی ہیں۔ افراط زرکی شرح مالی سال 2026 کیلیے 6.5 فیصدسے 7.5 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔
سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ کے مطابق سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، اگرچہ پنجاب میں کچھ مسائل متوقع ہیں،تاہم سندھ کی فصل بہتر ہے،ربیع سیزن میں گندم کی پیداوارکلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹاپ لائن کے مطابق اب شرح سودمیں مزیدکمی کی گنجائش محدود ہے اور پالیسی ریٹ 11فیصد پر رکنے کاامکان ہے،مالی خسارے کا تخمینہ 4.8 فیصدجی ڈی پی تک بڑھ گیا ہے، حکومت نے زرعی ایمرجنسی نافذکر دی ہے، متاثرہ علاقوں میں بجلی بلوں میں رعایت دی جاسکتی ہے۔
ٹاپ لائن کاکہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام جاری رہے گا، اہم معاشی اصلاحات جیسے پی آئی اے کی نجکاری اور ریکوڈک منصوبے پر بھی پیشرفت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :