برطانوی حکومت کی جانب سے آج فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کیے جانے کا امکان ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر سٹارمر آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے اعلان کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل جولائی میں انہوں نے کچھ شرائط رکھی تھیں کہ اسرائیل کو لازمی طور پر غزہ کی خوفناک صورتحال کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے اور جنگ بندی پر آمادہ ہونا ہوگا۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو غزہ میں امداد کی بحالی کی اجازت دینا ہوگی اور مغربی کنارے کو ضم نہیں کرنا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوئیں تو برطانیہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا قدم اٹھائے گا۔

غزہ میں جاری فوجی کارروائی اور انسانی بحران کے ساتھ ساتھ، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبے بھی برطانوی حکومت کے لیے باعثِ تشویش ہیں، جسے وزراء دو ریاستی حل کے خاتمے کی کوشش سمجھتے ہیں۔

جنرل اسمبلی میں برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے برطانوی نائب وزیرِ اعظم ڈیوڈ لامی نے کہا ہے کہ ”فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مغربی کنارے میں جو سنگین توسیع ہو رہی ہے، بستیوں کے تشدد اور نئے منصوبوں جیسے کہ ای ون ڈیولپمنٹ، جو دو ریاستی حل کے لیے خطرناک ہے، اس کا نتیجہ ہے۔“

دوسری جانب فرانسیسی صدر میکرون نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی کانفرنس سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔

صدر میکرون نے کہا ہے کہ 122 ممالک کا نیویارک اعلامیے کو اپنانا دو ریاستی حل کے لیے اہم موڑ ہے۔ ہماری کوششیں مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی کا راستہ نکال سکتی ہیں۔

سعودی عرب اور فرانس کل ٹو اسٹیٹ کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ کانفرنس عالمی برداری کو مزید متحرک کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

غزہ میں اسرائیل کی بمباری جاری
غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔ 24 گھنٹوں میں مزید 34 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 65 ہزار 208 ہوگئی ہے۔

غذائی قلت سے مزید چار افراد دم توڑ گئے ہیں۔ ادھر تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہری حکومت کے خلاف سٹرکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے صدر ٹرمپ سے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلسطین کو دو ریاستی کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا