بھارتی ریاست تریپورہ میں خاتون کی نیم جلی لاش برآمد، الزام بی جے پی رکن اسمبلی کے بھتیجے پر عائد
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
بھارتی ریاست تریپورہ کے ضلع گوماتی میں ایک خاتون کی نیم جلی لاش برآمد ہونے کے بعد معاملہ سنگین سیاسی رخ اختیار کر گیا۔
خاتون کے شوہر نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی جیتندر ماجمدار کے بھتیجے اور اس کے ساتھیوں نے انہیں اور ان کی بیوی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد خاتون نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کے خلاف نعرے بازی، پٹنہ میں کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں تصادم
پولیس نے ابتدائی طور پر غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم بعد میں اسے خودکشی پر اکسانے کا کیس بنا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور مزید دفعات شامل کی جائیں گی۔
وزیر خزانہ پرنجیت سنگھ رائے نے متاثرہ خاندان کے گھر جا کر یقین دلایا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہوگی اور قصورواروں کو سخت سزا ملے گی۔ ریاستی وزیراعلیٰ مانک سہہ نے بھی فیس بک پر لکھا کہ 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔
خاتون کے شوہر نے الزام لگایا کہ جب وہ شکایت درج کرانے گئے تو پولیس نے ان کی بات نہیں سنی اور واپسی پر ملزمان نے ان کا پیچھا کیا۔ اگلی صبح ان کی بیوی کی نیم جلی لاش سڑک کے قریب ملی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی وزیراعظم کا 2 برس بعد منی پور کا دورہ، عوام کا شدید احتجاج، ’گوی مودی‘ کے نعرے
اس واقعے پر اپوزیشن جماعتیں برہم ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ پولیس ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے 22 ستمبر کے دورے سے پہلے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت سی پی آئی (ایم) نے پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ خاتون کو زندہ جلایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بی جے پی نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بی جے پی الزام لگایا بی جے پی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔