کووڈ 19 کی رپورٹنگ کرنے والی چینی خاتون صحافی کو مزید 4 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
چینی صحافی ژانگ ژان، جنہوں نے کووڈ-19 وبا کے ابتدائی دنوں میں ووہان سے حالات رپورٹ کیے تھے، کو دوبارہ 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
صحافیوں کے حقوق کے عالمی ادارے ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق 42 سالہ ژانگ ژان کو جمعہ کے روز فساد پھیلانے کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ یہی الزام ان پر 2020 میں بھی عائد کیا گیا تھا جب انہوں نے وبا کے آغاز پر ووہان سے اسپتالوں اور سنسان سڑکوں کی ویڈیوز اور رپورٹس شائع کی تھیں جو سرکاری بیانیے سے کہیں زیادہ سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’کورونا کا خطرہ اب بھی موجود‘،نئی کووِڈ-19 ویکسین کن لوگوں کے لیے کارآمد ہے؟
ژانگ کو دسمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس دوران وہ کئی ماہ تک جیل میں بھوک ہڑتال پر رہیں۔ ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں زبردستی کھانے کے لیے ٹیوب کے ذریعے خوراک دی۔ وہ مئی 2024 میں رہا ہوئیں مگر 3 ماہ بعد دوبارہ حراست میں لے کر شنگھائی کے پُڈونگ حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ تازہ سزا چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ژانگ کی رپورٹنگ کے بعد سنائی گئی ہے۔ ان کے سابق وکیل رین کوانیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ الزامات دراصل ژانگ کی غیر ملکی ویب سائٹس پر دی گئی آرا کی بنیاد پر عائد کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے ژانگ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے جب ژانگ کو بے بنیاد مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے اور چینی حکام کو ان پر عائد تمام الزامات ختم کر کے فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین سزا صحافی کورونا وبا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین صحافی کورونا وبا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔