سیلاب کے باعث موٹروے ایم 5 کئی مقامات سے متاثر، تمام 6 لین نئے شگاف میں بہہ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ملتان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر 2025ء ) صوبہ پنجاب میں سیلاب کے باعث موٹروے ایم 5 کئی مقامات سے متاثر ہوئی ہے جہاں تمام 6 لین نئے شگاف میں بہہ گئیں، مزید 4 سے 5 پوائنٹس متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا گیا۔ ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق موٹر وے ایم 5 سیلاب کی وجہ سے تا حال بند ہے، ملتان سے سکھر متبادل راستے سے سفر کیا جاسکتا ہے، شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ کی طرف ٹریفک جا سکتی ہے، اوچ شریف کے راستے انٹرچینج سے دوبارہ موٹر وے ایم 5 پر سفر کیا جا سکتا ہے، سکھر سے ملتان ایم 5 اوچ شریف انٹر چینج قومی شاہراہ پر سفر کیا جا سکتا ہے جب کہشیر شاہ انٹرچینج سے دوبارہ موٹر وے ایم 5 کو جوائن کیا جا سکتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ جلالپور پیروالہ کے قریب ملتان-سکھر موٹروے ایم فائیو کا ایک بڑا حصہ دریائے ستلج کے دباؤ کے باعث مکمل طور پر بہہ گیا، جس سے یہ اہم قومی شاہراہ منقطع ہوگئی، یہ شگاف تیز پانی کے دباؤ سے تیزی سے پھیل گیا اور اب دونوں ٹریکس کی تمام چھ لین نگل چکا ہے، جس کے باعث جنوبی اور وسطی پنجاب کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر بند ہوگئی، اس کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں اور مسافر خطرناک متبادل راستوں پر جانے پر مجبور ہیں۔(جاری ہے)
محکمہ آبپاشی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایم فائیو پر دوسرا بڑا شگاف ہے جس نے شاہراہ کو مفلوج کردیا، ہنگامی ٹیمیں مسلسل رات دن بڑے پتھر ڈال کر زمین کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، دریائے ستلج نے گیلانی روڈ اور ایم فائیو موٹروے کے درمیان 20 سے 25 کلومیٹر طویل جھیل نما خطہ بنا دیا، جس نے موٹروے کو اپنی پوری لمبائی کے ساتھ ڈبو کر بری طرح نقصان پہنچایا۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے موٹر وے کے باعث وے ایم 5 کیا جا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔