ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مسلم ممالک کو اسرائیلی سفاکیت کو روکنا ہوگا، امریکی صدر اس وقت مخمصے کا شکار ہیں، امریکی صدر معاملے کا حل بات چیت سے چاہتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے بگرام ایئربیس امریکا کی مجبوری ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسعود خان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل پر کام کر رہے ہیں، وہ غزہ میں اسرائیلیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کا ساتھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مسلم ممالک کو اسرائیلی سفاکیت کو روکنا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت مخمصے کا شکار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ معاملے کا حل بات چیت سے چاہتے تھے۔ سابق سفیر نے کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان کو کھلی چھوٹ دی گئی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی، بگرام ایئربیس 77 کلومیٹر پر محیط ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے بگرام ایئربیس امریکا کی مجبوری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بگرام ایئربیس ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق