ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے کہ بگرام ایئربیس امریکا کی مجبوری ہے، مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مسلم ممالک کو اسرائیلی سفاکیت کو روکنا ہوگا، امریکی صدر اس وقت مخمصے کا شکار ہیں، امریکی صدر معاملے کا حل بات چیت سے چاہتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے بگرام ایئربیس امریکا کی مجبوری ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسعود خان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل پر کام کر رہے ہیں، وہ غزہ میں اسرائیلیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کا ساتھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مسلم ممالک کو اسرائیلی سفاکیت کو روکنا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت مخمصے کا شکار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ معاملے کا حل بات چیت سے چاہتے تھے۔ سابق سفیر نے کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان کو کھلی چھوٹ دی گئی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی، بگرام ایئربیس 77 کلومیٹر پر محیط ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے بگرام ایئربیس امریکا کی مجبوری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بگرام ایئربیس ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔