محراب پور: دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ، زمینداری بند ٹوٹنے سے بکھری شہراور ایک درجن دیہات زیر آب آگئے، سیلابی پانی میں ڈوب کر بچہ جاں بحق ہوگیا نوشہرو فیروز کچے میں دریائے سندھ کے ایک سو کلو میٹر علاقے میں پانی کی سطح میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے کمال ڈیرو میں دریائے سندھ پر قائم زمینداری بند ٹوٹنے سے بکھری شہر زیر آب آگیا، شہر کے گھروں، مین بازار، پرائمری، مڈل اسکول تک سیلابی پانی پہنچ گیا ہے، سیلابی پانی سے گاؤں پیر مہدی شاہ، گاؤں نذر سامیٹو، گاؤں مصری سامیٹو، گاؤں دائود سامیٹو سمیت درجنوں دیہات اور ہزاروں ایکٹر اراضی، فصلیں زیر آب آ گئی ہے، ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندے امدادی کارروائی کی بجائے غائب ہیں، دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ کے باعث سوبھو ڈیرو کے کچے میں سیلابی پانی میں ڈوب کر یاسین ملاح نامی بچہ جاں بحق ہوگیا، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور نوشہرو فیروز کے ضلعی کوآرڈنیٹر محمد سلیم مغل کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور سیلاب کی صورت حال کیلئے مقرر فوکل پرسن موسی گوندل کی کارکردگی ناقص ہے کچے سے نقل مکانی کرنے والے افراد، مویشی جانورکے انتظامات نہیںکیئے اب بکھری کا زمینداری بند ٹوٹنے پرضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں کا کردار افسوس ناک ہے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں نوشہرو فیروز سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پانی کی سطح میں دریائے سندھ سیلابی پانی
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔