Jasarat News:
2026-07-24@03:25:58 GMT

کے فور منصوبے میں تاخیر، آڈٹ رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250922-03-3

 

کراچی برسوں سے پانی کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھتی رہی، صنعتیں پھیلتی گئیں لیکن پانی کے ذرائع اور سپلائی سسٹم اسی پرانے ڈھانچے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ اس وقت شہر کو روزانہ تقریباً 1200 ملین گیلن پانی درکار ہے جبکہ فراہمی بمشکل 650 ملین گیلن تک محدود ہے۔ یہی پس منظر تھا جس میں کے فور منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ لیکن افسوس، یہ منصوبہ دو دہائیوں بعد بھی اپنی تکمیل کو ترس رہا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ اس حقیقت کو مزید بیان کرتی ہے کہ کے فور منصوبے میں بدانتظامی، تاخیر اور وسائل کے ضیاع نے کراچی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ ہوا تو 2025-26 میں کراچی میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق کے فور کے فیز ون کو 8 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، مگر اب تک صرف 45 فی صد تک کام مکمل ہوسکا ہے۔ تین فلٹریشن اسٹیشنوں پر صرف 25 فی صد پیش رفت، پمپنگ اسٹیشن پر محض 26 فی صد اور پائپ لائن بچھانے کے دو حصوں میں 50 فی صد سے کچھ زیادہ ترقی۔ یہ کارکردگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اس منصوبے کو فروری 2024 تک مکمل ہونا تھا۔ مزید یہ کہ تاخیر کے باوجود پروجیکٹ ڈائریکٹر کے لیے چھے کروڑ روپے کی چار لگژری گاڑیاں خریدی گئیں۔ انتظامیہ نے جواز دیا کہ یہ غیر ملکی ماہرین کی سہولت کے لیے تھیں، مگر آڈیٹر جنرل نے اس وضاحت کو ناکافی اور غیر قانونی قرار دیا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ عوامی ضرورت کے اس اہم منصوبے کو بھی بیوروکریسی اور ٹھیکیداری سیاست نے ایک بار پھر تختۂ مشق بنا ڈالا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 2021 میں کراچی کو ’’پیرس بنانے‘‘ کا وعدہ کیا تھا۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ کے- فور جیسے زندگی کے لیے ناگزیر منصوبے کے لیے وفاقی بجٹ میں محض 3.

2 ارب روپے مختص کیے گئے، جب کہ اصل ضرورت 40 ارب روپے کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اس زیادتی پر آواز بلند کی اور وزیراعظم کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ فوری طور پر 40 ارب روپے فراہم کیے جائیں۔ اس موقع پر کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان مرحوم کی خدمات کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے 2001 سے 2005 تک اپنے دور میں شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہی کے دور میں کے-تھری منصوبہ مکمل ہوا، جس سے شہر کو 100 ملین گیلن پانی اضافی ملا۔ کے-تھری کا شمار کراچی کے واحد بڑے آبی منصوبے میں ہوتا ہے جو بروقت مکمل ہوا۔ نعمت اللہ خان کے دور میں کے-فور منصوبے کا PC-II 2003 میں تیار ہوا اور اس کی ابتدائی فزیبلٹی پر پیش رفت شروع کی گئی۔ اگر ان کے بعد آنے والی حکومتیں اور انتظامیہ اسی جذبے اور سنجیدگی سے کام کرتیں تو آج کراچی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا نہ ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے ان کے بعد آنے والی قیادت نے یا تو اس منصوبے کو سیاست کی نذر کیا یا پھر بدانتظامی کی وجہ سے اسے بار بار التوا میں ڈالاہوا ہے۔ نعمت اللہ خان مرحوم کے وژن کا یہ پہلو نمایاں تھا کہ وہ شہر کے مسائل کو صرف کاغذی وعدوں میں نہیں، عملی منصوبہ بندی میں دیکھتے تھے۔ ان کی قیادت میں ماسٹر پلان تیار ہوا، نالی نالوں کی صفائی اور سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ شہری سہولتوں پر توجہ دی گئی۔ آج بھی کے-فور کے حوالے سے جب بات ہوتی ہے تو ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نعمت اللہ خان کی پالیسیوں کو تسلسل ملتا تو کراچی پانی کے بحران سے بچ جاتا۔ کے-فور کی تاخیر دراصل حکومتی ترجیحات کا عکاس ہے۔ یہ وہی شہر ہے جو پاکستان کی معیشت کا انجن ہے لیکن یہاں کے عوام روزانہ پانی کے حصول کے لیے ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔ بعض علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کے لیے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، بعض اوقات ٹینکر کی قیمت ہزاروں روپے تک جا پہنچتی ہے۔ یہ بحران صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سماجی ناانصافی بھی ہے۔ غریب عوام لائنوں میں کھڑے ہو کر پانی کے ڈرم بھرنے پر مجبور ہیں جبکہ صاحب ِ حیثیت طبقہ ٹینکروں سے اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے جو پیش گوئی کی ہے، وہ الارمنگ ہے: اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ ہوا تو 2025-26 میں کراچی میں پانی کا شدید بحران ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ صنعتوں کی پیداوار متاثر ہوگی، عوامی زندگی اجیرن بن جائے گی اور ٹینکر مافیا مزید طاقتور ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں عوامی بے چینی میں اضافہ اور سماجی انتشار کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ کے-فور منصوبہ ایک امتحان ہے حکومت، اداروں اور سیاسی قیادت کے لیے۔ یہ منصوبہ کراچی کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر اسے مزید تاخیر کا شکار کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کے نتائج نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کی معیشت پر بھاری پڑیں گے۔ نعمت اللہ خان مرحوم نے ایک مثال قائم کی تھی کہ نیت صاف ہو اور عوامی خدمت کا جذبہ ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی مکمل ہوسکتا ہے۔ آج کراچی کے عوام اسی جذبے اور عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ وعدوں اور دعوؤں سے نہیں، بلکہ بروقت منصوبوں کی تکمیل سے ہی یہ شہر اپنی پیاس بجھا سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے فور منصوبے نعمت اللہ خان کراچی کے پانی کے کے لیے

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق