امن کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، ناصر شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امن کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو امن، انصاف اور مساوات کے اصولوں پر قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا اور آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے نفرت، تعصب اور انتہاپسندی کو ختم کریں۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگوں اور دہشتگردی کے باعث لاکھوں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ ان حالات میں تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرکے امن قائم رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ہمیشہ امن اور بھائی چارے کے پیغام کو آگے بڑھاتی رہی ہے اور صوبے میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔صوبائی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، برداشت اور خدمتِ خلق کو اپنائیں کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ امن ہی اصل ترقی کا راستہ ہے اور پرامن معاشرہ ہی ایک روشن اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔