بھارتی یوٹیوبر گوا ایئرپورٹ کو آسیب زدہ قرار دینے پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت میں ایک یوٹیوبر کو مشکلات نے گھیر لیا، کیوں کہ اس نے اپنے چینل پر گوا کے منوہر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ’آسیب زدہ‘ قرار دیا تھا۔
پولیس کے مطابق یوٹیوبر نے اپنی ویڈیوز میں افواہیں پھیلانے اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش تھی، جس کا مقصد اپنے چینل کی ناظرین میں مقبولیت حاصل کرنا تھا۔
گرفتار ہونے والا شخص اکشے وشیشت نامی یوٹیوبر ہے جسے دہلی کے علاقے دوارکا سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے چھاپے کے دوران اس کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کیمرہ بھی ضبط کرلیا تاکہ شواہد محفوظ کیے جاسکیں۔ اس کے خلاف باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ یوٹیوبر نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ گوا کا یہ ہوائی اڈا ایک ایسی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے جو ماضی میں مردوں کو جلانے کےلیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
اُس نے مزید کہا کہ وہاں آج بھی ’مافوق الفطرت سرگرمیاں‘ جاری ہیں۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ رات کے وقت کئی طیارے اس ایئرپورٹ سے پرواز کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
پولیس حکام نے اس ویڈیو کو غیر ذمے دارانہ اور گمراہ کن قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسی ویڈیوز نہ صرف عوام میں بلاوجہ کے خدشات کو جنم دیتی ہیں بلکہ ملک کی اہم تنصیبات کے بارے میں منفی تاثر بھی پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح کی افواہیں ایئرپورٹ انتظامیہ کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہیں اور ملکی سلامتی پر بھی سوالات اٹھا سکتی ہیں۔
بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یوٹیوبر نے جان بوجھ کر یہ پروپیگنڈا کیا یا پھر کسی نے اسے غلط معلومات فراہم کیں، تاہم اب تک شواہد سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو کا اصل مقصد محض سنسنی خیزی پیدا کر کے چینل کے سبسکرائبرز اور ناظرین میں اضافہ کرنا تھا۔
دوسری جانب اکشے وشیشت کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ کچھ صارفین نے کہا کہ یوٹیوبر کو اپنی آزادی اظہار کا حق استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جب کہ کئی لوگوں نے اسے غیر ذمے دارانہ رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز معاشرے میں بے جا خوف پھیلاتی ہیں۔
بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملک کی اہم تنصیبات یا اداروں کے بارے میں جھوٹی اور سنسنی خیز باتیں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔