پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما کو لمبی قید کی سزا ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سٹی42:، پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما کو طویل عرصہ سے چل رہے مقدمہ میں لمبی قید کی سزا ہو گئی۔
قومی اسمبلی کے سابق رکن اور پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ جمشید دستی نے جعلی ڈگری قومی اسمبلی کا الیکشن لرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو پیش کی تھی۔
جمشید دستی کی ڈگری جعلی ہونے کے متعلق ان کے ھلقہ سے کسی ووٹر نے شکایت کی تھی۔ تحقیقات کے بعد الیکشن کمشن نے ان کی ڈگری کو جعلی پایا تھا۔
لاری اڈہ سے2 مشکوک ملزم گرفتار؛ اسلحہ برآمد
آج جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ ان پر جعلی ڈگری کے ذریعہ دھوکا دینے کا مقدمہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت میں چل رہا تھا۔ طویل سماعت کے بعد آج اس کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔
جمشید دستی نااہل
واسا کے 2 ملازم سیوریج ڈرین میں ڈوب گئے
سابق رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) جمشید دستی کی بی اے کی جعلی ڈگری کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے 15 جولائی کو انہیں نا اہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی بی اے کی دگری جعلی ہونے کے متعلق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی طویل سماعتیں کی تھیں۔ پھر 15 جولائی کو الیکشن کمیشن نے ا ریفرنس کو منظور کرتے ہوئےفیصلہ جاری کردیا۔ جمشید دستی کی نااہلی کی 2 درخواستیں الیکشن کمیشن نے منظور کیں۔ دوسری درخواست کی شہری کی طرف سےتھی۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
الیکشن کمیشن نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی تعلیمی اسناد جعلی قرار دے دیں تو ان کے خلاف جعلی ڈگری کے زریعہ دھوکا دینے کا مقدمہ بھی بن گیا۔
مئی 2025 میں الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف اثاثوں اور واجبات سے متعلق امیر اکبر کی درخواست پر سماعت کی تھی۔
ممبر خیبرپختونخوا نے استفسار کیا کہ کیا جمشید دستی کی ایسی جائیداد ہے جس سے الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا؟۔
24 ستمبر کو عام تعطیل ؛ نوٹیفکیشن جاری
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جمشید دستی نے اپنے کاغذات نامزدگی پر ایف اے لکھا ہے، جب کہ انہوں نے میٹرک اور ایف اے بھی نہیں کیا، بہاولپور یونیورسٹی نے ان کی بی اے اور ایف اے کی اسناد کو جعلی قرار دیا، انہوں نے بہاولپور بورڑ سے میٹرک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھی جعلی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ جمشید دستی نے ابھی جمشید دستی نے جواب میں میٹرک کراچی بورڈ کی ایک سند لگا دی ہے جو مزید جعلسازی ہے۔ جس پر ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس نااہل کرنے کے اختیارات ہیں۔
تمام تعلیمی سرٹیفیکیٹ اور بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کے باوجود جمشید دستی نے الیکشن کمیشن کے نا اہل قرار دینے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کر کے این اے 175 مظفر گڑھ میں ضمنی الیکشن ہی رکوا دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جمشید دستی کی درخواست پر این اے 175 میں ضمنی انتخاب رکوادیا تھا اور ضمنی الیکشن کا شیدول معطل کر دیا تھا۔ یہ کام 30 جولائی کو ہوا تھا۔
الیکشن کمیشن نے 15 جولائی کو جمشید دستی کی تعلیمی اسناد کو جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا اور مظفر گڑھ کے عوام کو قومی اسمبلی میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا موقع دینے کے لئے جمشید دستی کی نا اہلی سے خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن کا شیڈول طریقہ کار کے مطابق جاری کر دیا تھا۔
جمشید دستی کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا، الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی نااہلی کی 2 درخواستیں منظور کرلی تھیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن نے جمشید دستی نے جمشید دستی کی قومی اسمبلی قید کی سزا جعلی ڈگری جولائی کو کو جعلی دیا تھا
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔