اقوام متحدہ؛ 6 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں گے؛ اسرائیل امریکا کا بائیکاٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ؛ 6 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں گے؛ اسرائیل امریکا کا بائیکاٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 September, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز )اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں رکن ممالک کا سربراہی اجلاس آج فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہوگا جس میں 6 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی سربراہان کے اس اجلاس کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا ہے۔ جس میں فرانس، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، سان میرینو اور آندورا باضابطہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
اسرائیل اور امریکا نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جب کہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شریک نہیں ہو پائیں گے کیونکہ امریکا نے ویزے دینے سے انکار کر دیا۔فلسطینی صدر محمود عباس اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے کانفرنس کو “سرکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔
اسی طرح امریکی محکمہ خارجہ نے بھی مغربی ممالک کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات کو “محض نمائشی اقدامات” کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح اسرائیل کی سیکیورٹی، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے میں دیرپا امن ہے۔مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ وقت فیصلہ کن ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دو ریاستی حل ہمیشہ کے لیے دفن ہوسکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کا مقف ہے کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا “دہشت گردی کے لیے انعام” ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد مارگلہ سٹیشن کی حدود کو میٹروبس سٹیشن تک توسیع دیں گے: حنیف عباسی اسلام آباد مارگلہ سٹیشن کی حدود کو میٹروبس سٹیشن تک توسیع دیں گے: حنیف عباسی جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ، جمشید دستی کو سات برس قید کا حکم،سیشن کورٹ نے فیصلہ سنا دیا پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ، حکومت کا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ پاکستان میں پولیو کے اور کیس کی تصدیق، رواں سال کیسز کی تعداد 27 ہوگئی افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب دمشق میں نئی تاریخ رقم: خانہ جنگی کے بعد شام کے پہلے پارلیمانی انتخابات کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کو تسلیم اقوام متحدہ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔