قومی اسمبلی ذیلی کمیٹی کی پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فوری انتخابات کرانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فوری انتخابات کرانے کی ہدایت کردی جب کہ اجلاس میں پی ایچ افی کے صدر طارق بگٹی کی نامزدگی کو درست قرار دیا گیا۔
شیخ آفتاب کی کنوینر شپ میں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا جس میں وزارتِ قانون اور اٹارنی جنرل آفس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی کی نامزدگی کا جائزہ لیا گیا جسے وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آفس نے درست قرار دے دیا۔
قائمہ کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فوری الیکشن کرانے کی ہدایت دی جس پر طارق بگٹی نے 2 ماہ میں انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی ایچ ایف جنرل کونسل نے طارق بگٹی پر اعتماد ظاہر کیا ہے جب کہ ان کی بنیادی ذمہ داری الیکشن کرانا ہے۔ ڈی جی پی ایس بی یاسر پیرزادہ نے کہا کہ نگران وزیراعظم نے طارق بگٹی کو فیڈریشن کے انتخابات اور آڈٹ کی ذمہ داری دی تھی، تاہم فیڈریشن نے کانگرس، ایسوسی ایشنز اور کلبوں کا مکمل ڈیٹا فراہم نہیں کیا، ایسی صورتحال میں دو ماہ میں انتخابات کرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
کمیٹی نے طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
اس موقع پر صدر پی ایچ ایف طارق بگٹی نے کہا کہ فیڈریشن ایک خودمختار ادارہ ہے، انہیں کانگرس کا اعتماد حاصل ہے۔ شہلا رضا نے الگ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدر حسین نے ہاکی فیڈریشن کا ریکارڈ چوری کیا، کراچی ہاکی اسٹیڈیم پر قبضے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے ان پر تاحیات پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم نے حیدر حسین کیخلاف متعلقہ اداروں میں شکایت درج کروا کھی ہے۔
وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی نے کہا کہ فیڈریشن جلد انتخابات کرا کے تنازع ختم کرے تاکہ معاملہ شفاف ہو سکے۔
اجلاس میں ایف آئی اے کے حکام بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ ہاکی فیڈریشن کے آڈٹ اعتراضات اور بے ضابطگیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، اس سلسلے میں فیڈریشن سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ہاکی فیڈریشن کو ایف آئی اے کو مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن ہاکی فیڈریشن کو طارق بگٹی کمیٹی نے کرانے کی کی ہدایت
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز