نتخابات فروری میں، آزادانہ اور شفاف ہوں گے، ڈاکٹر محمد یونس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات فروری کے پہلے نصف میں منعقد ہوں گے اور یہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور پرامن ہوں گے۔
چیف ایڈوائزر نے یہ بات پیر کو نیویارک میں امریکی خصوصی ایلچی برائے جنوبی و وسطیٰ ایشیا اور بھارت کے نامزد سفیر سرجیو گور سے ملاقات کے دوران کہی۔
US Special Envoy on South Asia Calls on Chief Adviser
New York, September 22: Chief Adviser Professor Muhammad Yunus on Monday said the Interim Government is making comprehensive preparations to ensure a free, fair, and peaceful general election in the first half of February.
— Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) September 23, 2025
پروفیسر یونس کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت انتخابات کے شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے جامع تیاریوں میں مصروف ہے اور ملک اس حوالے سے پوری طرح تیار ہے۔
امریکی حمایت کی یقین دہانیاس موقع پر سرجیو گور نے چیف ایڈوائزر کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ امریکا ملک کی جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔
باہمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیالملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون سے متعلق وسیع موضوعات پر گفتگو ہوئی جن میں تجارت، جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون، سارک (SAARC) کی بحالی، روہنگیا بحران اور ڈھاکا کو نشانہ بنانے والی گمراہ کن اطلاعات کا پھیلاؤ شامل تھے۔
چیف ایڈوائزر نے ایک ملین سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے امریکہ کی جاری انسانی معاونت کو سراہا اور ان کے لیے مسلسل حمایت کی درخواست کی۔ امریکی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی زندگی بچانے والی امداد جاری رہے گی۔
علاقائی تعاون اور ترقی کے امکاناتپروفیسر یونس نے اس بات پر زور دیا کہ عبوری حکومت نے سارک کو فعال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش آسیان (ASEAN) میں شمولیت کا خواہاں ہے تاکہ جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کے ساتھ انضمام کے ذریعے ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا مشکلات میں گھرے ڈاکٹر یونس مستعفی ہو جائیں گے؟
انہوں نے نیپال، بھوٹان اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے بقول ہم قریبی علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معاشی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایلچی انتخابات بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی ایلچی انتخابات بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات علاقائی تعاون چیف ایڈوائزر کے لیے
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین